Canadian women accepted islam

Spread the love

یہ ہیں وہ کینیڈین بائکر جنہوں نے اسلام قبول کیا،
انکی کہانی اتنی سادہ نہیں جتنا دیکھنے میں لگتی ہے،
پڑھتے ہوئے بارہا ذہن ملحدوں کی جانب گیا کہ یہ باتیں تو وہ بھی کرتے ہیں،
اتنی تکلیف میں ہوں خدا کہاں ہے؟
میرے ساتھ ہی برا ہوتا ہے اسکا مطلب خدا کی خدائی کے دعوے بےبنیاد ہیں..
دنیا میں اتنی ناانصافی بےایمانی ہے خدا اتر کر اسے کیوں نہیں روکتا؟
وغیرہ وغیرہ جیسے گھسے پٹے اعتراضات جنکو سمجھانے میں شاید اہل علم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن بات وہی سمجھے جسکو حق کی تلاش ہو نہ کہ اس پہ اعتراضات کی…
بقول روزی کے وہ سمجھتی ہیں کہ وہ شروع سے مذہبِ اسلام پہ تھیں جنکا عقیدہ تھا
“نہیں کوئی معبود اللہ کے سوا”
لیکن دنیا اور خاص طور پر پاکستان گھومنے کے بعد محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کو اب اپنا رسول بھی مانتی ہیں…
کیا یہی بات ملحد نہ کرتے؟
کہ ایک تہائی کلمے پہ تو ہمیں پہلے سے یقین ہے
“نہیں کوئی معبود” ؟؟؟؟
کیا وہ یہ نہیں کہتے ہم الحاد پہ پیدا ہوئے ہیں بعد میں مذہبی بنایا گیا؟
جو ملحد یہ کہتے ہیں کہ پاکستانیوں کو تو کوئی سمجھ ہی نہیں باہر جا کر دیکھو اسلام اور پاکستان کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہے اس دنیا میں، لیکن کنوئیں میں رہنے والے جاہل مینڈک کہاں سمجھیں اس آزادی کو؟ ایسی باتیں کرکے اپنے ہی ہم وطنوں کو احساس کمتری میں مبتلا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے محض اسلیے کہ تھوڑا سا حلیہ اور ہلکی سی زبان انگریزوں سے ملتی ہے؟؟؟

کیا وہ سارے لوگ اب مجھے بتا سکتے ہیں کہ کینیڈا کا ایک آزاد پرندہ کیوں کر کنویں کا مینڈک بننے پر اتر آیا؟ انکو کاہے محسوس ہوا کہ اگر میں اس مذہب کی پناہ میں آگئی تو امن ہی امن شانتی ہی شانتی ہوگی؟
جہاں ہمارے اپنے ہمیں اپنے ملک اور مزہب میں خامیاں نکال نکال تھکتے نہیں وہاں ایک غیر آکر ہمیں بتاتیں کہ تمہارے ملک جیسا کوئی ملک نہیں تمہارے لوگوں جیسے مہمان نواز اور پرخلوص لوگ کہیں اور نہیں، تمہارے مذہب جیسا پرامن، جامع اور خوبصورت کوئی اور مذہب نہیں…
انکو کیوں اور کیسے احساس ہوا کہ اسلام وہ نہیں جیسا میڈیا یا کچھ بے لگام ملحد اور لبرلز بتاتے ہیں؟ کیا ان پہ بھی کوئی زبردستی کی گئی ہے ؟
سب بنیادی سوالات وہی ہیں، الجھنیں وہی ہیں، زندگی کی مشکلات اور اس سے گھبراہٹ وہی ہے،
پھر کیوں کر چار سال پہلے اپنا مذہب چھوڑ دینے والی ملحدہ کل مسلمان ہو گئیں؟
دوستو روزی بھی ہم میں سے ہی ہیں، اسی ہجوم کا حصہ ہیں جس میں وقاص گورایہ، جنید حفیظ جیسے لوگ بھی شامل ہیں، ویسے ہی جذبات رکھتی ہیں جتنے ایک عام انسان رکھتا ہے، انکے پاس بھی ایک عدد دماغ بلکہ عام بھیڑ چال کے شکار مسلمانوں سے کہیں بہتر دماغ ہے کہ انہوں نے کسی بھی فرقے کی پیروی کرنے سے انکار کر دیا ہے، اور اسلام کو اسی طرح سے پیروی کرنے کی خواہاں ہیں جس طرح اسے اللہ نے اپنے رسول صل اللہ علیہ والہ وسلم پہ نازل کیا… انکے پاس بھی سائینس کی کتابیں ویسے ہی موجود ہیں جیسے ملحدوں کے پاس .. انکے پاس بھی اللہ کی آزمائشیں ویسے ہی پہنچی ہیں جیسے باقی انسانوں تک…
تو اگر انہیں اس ہجوم میں کوئی چیز ممتاز کرتی ہے تو وہ ہے انکی سوچ….
اور
انکی کہانی پڑھتے ہوئے بس اتنا ہی ذہن میں آیا کہ
مثبت سوچ انسان کو مسلم بناتی ہے جبکہ منفی ملحد!!!
اللہ سب کو ہدایت دے!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *